ہم سے رابطہ کیجیئے   پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   انگليسي   العربيه   فارسي  

خواتین کی کلچرل اور سوشل کونسل کے فرائض اور اختیارات


فرائض

آرٹیکل1:

خاتون کی شان و منزلت اور انسانی شخصیت کی ترقی کے علاوہ ان کی عزت و وقار اور قدر و قیمت کی بحالی کے عمل میں تیزی لانے اور خواتین کے ہمہ پہلو حقوق کی وصولی کےلیے اسلامی اصولوں کی بنیاد پر زمین ہموار کرنے اور مناسب ماڈلز پیش کرنے کے مقصد سے ضروری پالیسیوں کی فراہمی اور منصوبہ بندی؛
آڑٹیکل 2:
مختلف نسلی گروپوں اور اقوام کی ثقافت کی مثبت خصوصیات کو پہچاننے اور انہیں کمزور ہونے سے بچانے کے ساتھ ساتھ، اخلاقی فسادات، اجنبی ثقافتوں کے تباہ کن پہلووں کی جڑوں اور مذہب کے نام پر متعصب، متحجر اور پسماندہ افکار اور معاشرے کی خواتین پر طاغوتی نظام کے دور سے عائد کیے گئے جبر اور امتیازی سلوک کی شناخت، مطالعہ اور اس سے مقابلہ کرنے کےلیے ضروری پالیسیوں کی فراہمی اور منصوبہ بندی؛
آڑٹیکل 3:
شادی کے مقدس رشتے میں بندھ جانے اور خاندان کی تشکیل کے عمل میں آسانی پیدا کرنے کی بنا پر "خاندان" جیسے قیمتی اقدار کی بنیادیں مضبوط کرکے ان کی بڑھ چڑھ کر بحالی، ترقی اور اس کی شرافت اور قداست کی محافظت کرنے کے علاوہ، اسلامی قواعد و ضوابط اور اخلاقیات کی بنیاد پر اس حرمت اور خاندانی تعلقات کی مضبوطی کےلیے ضروری پالیسیاں بنانے، منصوبہ بندی اور ایگزیگٹو اداروں کے مجوزہ پروگراموں میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور ان کا ماہرانہ جائزہ لے کر اس میدان میں مختلف سرگرم ایگزیکٹو اداروں اور ایجنسیوں کی مدد کرنے کےلیے مناسب تجاویز پیش کرنا؛
آرٹیکل 4:
لڑکیوں اور عورتوں کےلیے تعلیمی، تفریحی اور فنی سہولیات اور ذرائع ابلاغ کے استعمال کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے عمل سے فارغ اوقات سے بہتر فائدہ اٹھانے کی بہترین منصوبوں کی فراہمی اور اس راستے میں ضروری پالیسیاں بنانے، منصوبہ بندی اور ایگزیگٹو اداروں کے مجوزہ پروگراموں میں ہماہنگی پیدا کرنا اور ان کی مدد دلانے کے مقصد سے مناسب تجاویز پیش کرنا؛
آرٹیکل 5:
عوامی شعور اور تعلیم پانے کے عمل میں ترقیاتی منصوبوں کی فراہمی کے علاوہ نظام تعلیم اور خواتین کی اعلی تعلیم سے متعلق اچھے طرزعمل اور پالیسیوں کا جائزہ لینا؛
آرٹیکل 6:
سیاسی، سماجی، معیشتی، ثقافتی اور فنی سرگرمیوں میں خواتین کی شمولیت اور تعاون کی زمینوں کا جائزہ لینا اور ان جیسی سرگرمیوں کی ترقی کے راستے میں موجودہ رکاوٹوں اور مسائل کا جائزہ لے کر انہیں ہٹانا؛
آرٹیکل 7:
بے سرپرست اور حاجتمند خواتین کے مسائل و مشکلات کو رفع کرنے اور ان کی حمایت کرنے کےلیے اچھے اچھے منصوبوں کی فراہمی اور ان کا جائزہ لے کر خواتین کی معیشت اور روزگار کی حالات کی چھان بین؛ 
آرٹیکل 8:
خواتین کے ثقافتی اور سماجی امور میں فعال تنظیموں اور اداروں کی سرگرمیوں کو ہم آہنگ کرنے کے راستے میں اقدامات انجام دینے کےلیے اچھی اچھی حکمت عملیاں متعین کرکے اگر ضرورت ہو تو ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کی خدمت میں مناسب تجاویز پیش کرنا؛ 
آرٹیکل 9 :
خواتین کے اہم ثقافتی اور سماجی مسائل پر تحقیق کرنے والے اداروں اور باصلاحیت محققین کو برمحل اور مناسب تجاویز پیش کرنے کے علاوہ خاندانی اور سماجی معاملات میں اسلامی خیالات کی وضاحت کرنے والے مسلمان مفکرین، ماہرین اور دانشوروں کی حمایت اور تحقیقاتی پروگراموں میں ہم آہنگی پیدا کرنا؛
آرٹیکل 10:
خواتین کے ثقافتی اور سماجی وضع و حال اور حیثیت کی مسلسل جانچ پڑتال اور سالانہ رپورٹ پیش کرنا؛
آرٹیکل 11:
مختلف ممالک خاص طور پر اسلامی ممالک کی انقلابی تحاریک اور انجمنوں میں سرگرم خواتین کے ساتھ ثقافتی تعلقات کی ترقی کےلیے منصوبہ بندی؛
آرٹیکل 12:
خیالات کا اظہار اور فیصلہ سازی ایسے مسائل میں جنہیں ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کی جانب سے سپرد کیے جاتے ہیں؛ 
آرٹیکل 13:
خواتین سے متعلق ثقافتی _ تبلیغی اداروں کو سرگرمیوں کے مناسب قواعد و ضوابط اور معیاروں سے روشناس کرکے اچھی اچھی تجاویز پیش کرنا اور ان سرگرمیوں کی نگرانی کا طریقہ کار بیان کرنا؛

نوٹ 1:
خواتین کی کلچرل اور سوشل کونسل کی خاتون نمائندہ، نگرانی اور سرپرستی کے بورڈ (سپروائزری بورڈ) میں شامل ہوگا؛
نوٹ 2: 
پیراگرافز نمبر 1_7 اور 10_12 اس کونسل کے ان فرائض میں شمار ہوتے ہیں جن کے مطابق ان کے متعلقہ کیسز کا جائزہ لینے کے بعد حاصلہ منصوبوں کو حتمی منظوری پانے کےلیے ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کی خدمت میں پیش کیا جاتاہے-
اراکین کی ساخت:
1- ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کے دو خواتین اراکین یا نمائندے
2- ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کی طرف سے دو منتخب ہونے والی خواتین ماہرین
3- صدر مملکت کی دو خواتین نمائندے
4- اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کی طرف سے دو منتخب خواتین پارلیمانی نمائندے
5- عدلیہ کے سربراہ کی تجویز پر عدلیہ کی دو منتخب خواتین نمائندے
6- سسٹرز کی مذہبی درسگاہوں کے مینجمنٹ سینٹر کی تجویز پر حوزہ علمیہ قم کی دو منتخب خواتین نمائندے
7- اسلامی ثقافت اور گائیڈنس کی وزارت، وزارت ثقافت، سائنس ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت، وزارت تعلیم، لیبر اور سماجی امور کی وزارت، خارجہ امور، داخلہ اور صحت کی وزارتوں، علاج اور طبی تعلیم کی وزارت، ڈیپارٹمنٹ آف انفارمیشن، اسلامی جمہوریہ ایران کے نشریاتی ادارے آئي آر آئي بی، یونیورسٹیوں میں سپریم لیڈر کے نمائندوں کا دفتر، فزیکل ایجوکیشن آرگنائزیشن، اسلامی ثقافت و روابط آرگنائزیشن، اسلامی آزاد یونیورسٹی، عوامی رضاکار فورس "بسیج"، اسلامی تبلیغات آرگنائزیشن جیسے وزارت خانوں اور اداروں کے صدر یا وزیر کی طرف سے منتخب ہونے والی ایک خاتون نمائندہ جو خواتین کے ثقافتی اور سماجی امور کے ماہرین میں شمار ہوں- 
نوٹ 1:
جبکہ خواتین کی ثقافتی اور سماجی کونسل کے ایجنڈے کا موضوع، ملک کے وزارت خانوں اور دوسرے ایگزیکٹو اداروں میں سے ایک سے مرتبط ہو تو اس ادارے کا نمائندہ، ووٹنگ کے حق کے ساتھ اس اجلاس میں حصہ لے سکتاہے-
آرٹیکل 3:
خواتین کی ثقافتی اور سماجی کونسل کی خاتون چیئرمین، کونسل کے خود انہی دو اراکین میں سے ایک ہوں گی جنہوں نے ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کرکے ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کے سیکرٹری کی جانب سے بھی اس کے انتخاب کی توثیق کی جاتی ہے، لہذا تین سال کی مدت کےلیے منتخب ہوکے ان کے انتخاب کی حتمی منظوری کا حکم، ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کے صدر کے ذریعے جاری کیاجائے گا-
نوٹ 1:
مسلسل دوسری مرتبہ منتخب خاتون صدر کا انتخاب جائز ہے-
نوٹ 2:
خواتین اور خاندان کی کلچرل اور سوشل کونسل کی خاتون سیکرٹری کونسل کے خود انہی دو اراکین میں سے ایک ہوں گی یا کبھی ایسا بھی ہے کہ کونسل کے صدر کی طرف سے کوئی غیر رجسٹرڈ شخص کا تعارف اور انتخاب ہو کر ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کے سیکرٹری کی جانب سے اس انتخاب کی حتمی منظوری تین سال کی مدت کےلیے کی جاتی ہے- مسلسل دوسری مرتبہ، منتخب خاتون سیکرٹری کا انتخاب جائز ہے-
آرٹیکل 4:
کونسل کے تمام تنظیمی، فنانشل، انتظامی اور امپلائمنٹ سے وابستہ امور بھی ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کے سیکرٹریٹ بیورو کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے فیصلوں کے مطابق اور تابع ہوں گے- 
آرٹیکل 5:
خواتین کی ثقافتی اور سماجی کونسل اپنے فرائض انجام دینے میں ورکنگ گروپس تشکیل کرسکتی ہے-
نوٹ:
کونسل اور اس کے اسپیشلائزڈ ورکنگ گروپز کے ایگزیکٹو لاؤز، ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کی ذیلی کونسلوں اور خصوصی کمیشنز کے قواعد و ضوابط کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گے-
آرٹیکل 6:
ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کے اجلاس نمبر 677 میں چھ آرٹیکلز اور چھ نوٹز کے تحت لکھے ہوئے قواعد و ضوابط کا تعین ہو کر اسے منظور کیاگیا-