ہم سے رابطہ کیجیئے   پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   انگليسي   العربيه   فارسي  


جرمنی میں حجاب پر پابندی:

مغربی ممالک کی مسلم کلچرکے خلاف متحدہ جنگ


جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے حجاب کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جرمن معاشرے کے مطابق نہیں لہٰذا قانونی طور پر حجاب پر پابندی عائد کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس قانون کی رو سے عوامی مقامات، اسکولوں، جامعات اور سرکاری اداروں میں برقعے پر پابندی عائد کی جائے گی۔


اینجلا مرکل کے دستِ راست اور وزیرِ داخلہ تھامس ڈی میازیرے نے بھی رواں سال اگست کو برقعے پر مکمل پابندی کا سب سے پہلا اعلان کیا تھا۔


ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف برقعہ بلکہ صرف آنکھوں کو ظاہر کرنے والے ہر قسم کے حجاب پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے کیونکہ یہ جرمن معاشرتی اقدار کے خلاف ہے


اس سے قبل فرانس مسلمان خواتین پر اس قسم کی پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ فرانس کے اسکولوں میں اساتذہ اور طالبعلموں پر مذہبی لباس پہننے پر پابندی ہے۔


حال ہی میں جنوبی فرانس کے علاقے نیس میں انتظامیہ نے خواتین کے برقینی پہن کو ساحل سمندر پر جانے پر پابندی عائد کر دی تھی،


 برقعے اور حجاب کے حوالے سے مغربی ممالک کی بڑھتی ہوئی چینی اس امر کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ مسلمانوں‌کی روایت کو مغربی ممالک میں مسخ کرنے کی بھر پور کوشش کی جاری ہے۔


موجودہ وقت کا المیہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں اورمسلمانوں کے کلچر کے خلاف مغربی دنیا کی جنگ سے بالکل بے بہرہ ہیں۔
نیوز کوڈ:38492
ماخذ:شفقنا
تاریخ:12/11/2016