ہم سے رابطہ کیجیئے   پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   انگليسي   العربيه   فارسي  


ابن سَبْعين

ابو محمد قطب الدين عبدالحق بن ابراہيم، مُرسى اور رَقوطى کے القاب سے مشہور اور ساتویں صدی ہجری قمری کے عظیم فلسفی تھے- وہ اپنے زمانے کے سائنسوں مثال کے طور پر فقہ، حدیث، علم کلام، فلسفہ، عرفان، میڈیسن، کیمیا، اسرار الحروف، علم ارقام و اعداد سے واقفیت رکھتے تھے- یہ تصانیف ان کی ہیں: المسائل الصقليہ؛ بُدّالعارف؛ رسالہ الفقيريہ؛ رسالہ القوسيہ-

يوسف صَفَدى

يوسف بن ہلال صفدى ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری قمری کے حنفی مسلک فقیہ، ادیب اور طبیب تھے- وہ غریب مریضوں کا مفت عللاج کرنے کے علاوہ انہیں خوراک اور ادویات بھی دے کر ان کو امیر مریضوں پر فوقیت دیتے تھے- ان کی بعض تصانیف یہ ہیں: كشف الاسرار و ہتک الاستار؛ ارجوزہ فى الخلاف بين ابى حنيفہ و الشافى-

مرزا على ہمدانى

مرزا علی خان ہمدانی ناصری دور میں رئیس الاطباء تھے- کامران مرزا نائب السلطنہ کا خصوصی طبیب، چیف میڈیکل آفیسر (فزیشنز اینڈ سرجنز اور فارماسسٹوں کے صدر)، مجلس حفظ‌ الصحہ (ایران میں صحت کے ایک فوجی شعبے) کے سربراہ اور ایران کے رئيس‌ الاطباء (ایرانی ڈاکٹروں کے سربراہ) تھے- یہ تصانیف ان کی ہیں: احياء الاطفال ناصرى کا ترجمہ؛ امراض عصبانى؛ جواہر الحکمہ؛ امراض نسوان-