ہم سے رابطہ کیجیئے   پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   انگليسي   العربيه   فارسي  


ابوالحسن بَغَوى

ابوالحسن على بن عبدالعزيز بن مرزبان بن سابور بغوى تیسری صدی ہجری قمری کے محدث اور لغوى تھے- بغوى، غریبی کی وجہ سے نقل روایت کرنے کے لیے پیسے لیتے تھے؛ اسی لیے بعض ان کے رویے کو پسند نہیں کرتے تھے- ان کی تصانیف میں سے ایک، مسند ہے جن کے المسند، المسند الكبير، المسند المنتخب جیسے مختلف نام ہیں-

على ساوجى سوزى

حسن على ساوجى جو سوزى تخلص کرتے تھے، دسویں صدی ہجری قمری کے شاعر اور خطاط تھے- سوزى اکثر اوقات اصفہان کے ہارون ولايت نامی اسکول میں کتابت کے کام میں مصروف تھے اور لوگوں کے ہاں اعلی پوزیشن کے مالک تھے- ان کی بعض تصانیف یہ ہیں: ديوان سوزى جو 20000 اشعار پر مشتمل ہے؛ ديوان انورى اور كليات سلطان الشعرا کی خوشنویسی-

مكتبى شيرازى

مولانا مكتبى شيرازى نویں صدی ہجری قمری کے ایرانی شاعر ايرانى تھے- مكتبى نظامی گنجوی کو اپنے پیش نظر قرار دیتے ہوئے ان کے اسلوب پر گامزن تھے- مکتبی کی مثنویاں ، نظامی کے دوسرے پیروکار مثنوی گو شاعروں کی مثنویوں سے بہتر ہیں اور اصل اسلوب سے زیادہ شبیہ ہیں- ليلى و مجنون کے موضوع پر تغزل جیسے عناصر کو مثنوی کے ڈھانچے میں ڈالنا ان کا شہکار کارنامہ اور فن ہے جس کے ذریعے داستان بھی زیادہ موثر بن جاتاہے- عليہ غرّاء اور مثنوى ليلى و مجنون-