ہم سے رابطہ کیجیئے   پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   انگليسي   العربيه   فارسي  

ایران اور اسلام کے ثقافتی مشاہیر



بِشْرِ حافى

ابونصر بِشْر بن حارث جن کو "حافى" لقب دیے تھے، دوسری صدی ہجری قمری کے زاہد اور صوفى تھے- ابتدا میں سوت کی کتائی کی مصروفیت رکھتے تھے مگر ابواسحاق مَغازلى کی نصیحت پر یہ کام چھوڑ کر زہد اختیار کیا- ان کو ننگے پاؤں چلنے کی عادت تھی اور اس کی وجوہات کے بیان میں یہ آیاہے کہ وہ زمین کو حق کی بساط جانتے تھے اسی لیے اس کے احترام کرنے کےلئے ننگے پاؤں چلتے تھے- اصول و فروع دين سے بھی مکمل طور پر واقف تھے اور بہت سی احادیث جانتے تھے- "الزہد" کی تصنیف ان کی ہے-

آقا حسيـن خوانسارى

آقا ‌حسين خوانسارى بن جمال الدين، "محقق خوانسارى" سے مشہور اور (1016-1099) ہجری قمری میں شاہ عباس دوم اور شاہ سليمان اول صفوى کے عہد حکومت سے متعلق اور ایرانی عظیم شیعہ مسلک فقیہ، سائنسداں اور حـكـيم تھے- یہ تصانیف ان کی ہیں: حاشيه على ذخيرة المعاد؛ خمس پر ایک رسالہ؛ عقائدالنساء؛ المائدہ السماويہ؛ الجبر و الاختيار؛ رسالہ الجذر الاصم-

عبداللہ عبدى نيشابورى

عبدالله عبدى جن کو "عبدى"، "شاہی" اور "عبدى قلندر" کے القاب سے پہچانتے تھے، شاہ طہماسب اور شاہ اسماعيل صفوى کی دربار کے نامور شاعر اور خطاط تھے- وہ فقرا اور درویشوں کا مسلک رکھنے والے فنکار تھے اور امير عليشير نوايى ان کو "عبدىِ قَلَندر" لقب دیے تھے- حالنامہ عارفی کے ایک نسخے کی خطاطی ان کا ایک شاہکار ہے-