ہم سے رابطہ کیجیئے   پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   انگليسي   العربيه   فارسي  

ایران اور اسلام کے ثقافتی مشاہیر



محمد صالح اصفہانى

محمد صالح اصفہانى، عہد صفوی کے نامور خطاط تھے- خوشنویسی کے آثار کے علاوہ وہ خطاطوں کے بارے میں کوئی تذکرے کے مصنف بھی ہیں- اس تذکرے کو پڑھنے سے قاری کو خطاطوں کی زندگی اور آثار کے بارے میں بہت انمول معلومات ملتے ہیں- ان کے بعض آثار یہ ہیں: ایوان چہل ستون کے کتیبے کی خطاطی؛ ایران کے شہر اصفہان کے "مادر شاہ" نامی اسکول کے دروازے پر کتیبے کی خطاطی؛

پَرْتوی شيرازى

نویں اور دسویں صدی ہجری قمری کے شاعر اور طریقت و تصوف کے شیوخ میں سے تھے- ان کا دور شباب تو عیش و عشرت میں گزرا، مگر انہوں نے اپنی عمر کے آخری حصے میں توبہ و استغفار کرکے تعلیم پائی اور جلد ہی مختلف قسم کی نظمیں لکھنے کے علاوہ فلکیات اور میڈیسن میں زیادہ مہارت حاصل کی- ان کی بعض تصانیف یہ ہیں: ساقى نامہ؛ ديوان اشعار پرتوی؛

عبد الغفار نجم الدولہ

نجم الملک حاج ميرزا عبدالغفار بن آخوند على ‌‌‌محمد اصفہانى، "نجم الملک" سے مشہور، تیرہویں اور چودہویں صدی ہجری قمری کے ماہر فلکیات، مترجم اور دارالفنون نامی اسکول میں میتہ میٹھک کے ٹیچر تھے- ان کے سب سے اہم آثار تو میتہ میٹھک اور آپٹکس کے میدان میں شامل ہیں- ان کی بعض تصانیف یہ ہیں: رسالہ تطبيقيہ؛ سفرنامہ خوزستان؛ اسرارنامہ؛