ہم سے رابطہ کیجیئے   پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   انگليسي   العربيه   فارسي  


بابا فَرَجِ تبريزى

چھٹی صدی ہجری قمری کے عارف اور صوفی تھے- بابافرج کے روح و روان پر ایک خاص روحانی کیفیت طاری ہونے اور عام طور پر ایک باتھ روم کے کونے میں عزلت نشینی اختیار کرنے کی خاطر، وہ "شیخ واصل" اور "اولیائے اخفیا" کے القاب سے نوازے گئے- بابا فرج اپنے آپ کو اولیاء اللہ میں شامل سمجھتے تھے اور اس شرط پر شیخ نجم الدین اور دوسرے اکابرین کی ملاقات کرتے تھے جنہیں وہ لوگ اللہ تعالی سمجھ کر ان کی خدمت میں حاضر ہوجائیں-

حافظ شیرازی

شمس‌الدين محمد حافظ شيرازى، "لسان الغیب" کے لقب سے مشہور، آٹھویں صدی ہجری قمری کے فارسی ادب کے جاوداں اور جادو بیان غزلگو شاعر ہیں- شریعت اور ادب سے انہیں واقفیت حاصل تھی- عظیم قرآن شناس ہونے کے علاوہ علم بلاغت کے ماہر اور حکیمانہ و عارفانہ حقائق سے واقف تھے- ان کا شعری کلام، پرترنم، نازک اور اعلی الفاظ اور اچھے اچھے مضامین کے حامل ہے-

ہُمام تبريزى

ہمام الدين علاء تبريزى، ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری قمری کے شاعر، عارف اور سیاستداں تھے جن کا تعلق ایران کے شہر آذربائیجان سے تھا- اہم سائنسی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد، وہ ایک بے حد اعلی پوزیشن حاصل ہو کر طویل عرصے تک آذربائیجان کی وزارت کے عہدے پر فائز ہو رہے اور اس وقت کے حکام اور سلاطین سے مصاحبت بھی رکھتے تھے- ہمام تصوف کی طرف بھی مائل تھے اور تبریز میں ان کے نام پر ایک خانقاہ تھا جس میں لوگوں کی رہنمائی کرنے میں مصروف تھے- "دیوان ہمام" ان کی تصنیف ہے-