ہم سے رابطہ کیجیئے   پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   انگليسي   العربيه   فارسي  

ایران اور اسلام کے ثقافتی مشاہیر



اَرغونِ كاملى

ارغون بن عبداللہ، ایرانی نامور کیلیگرافر تھے- انہوں نے ششگانہ خطوط میں خطاطی کی ہے- ارغون کاملی کو خط ریحان میں مکمل طور پر مہارت حاصل تھی- "قرآن" اور "مرقعات" کی دو زمرہ بندیوں کے تحت ان کی خطاطی کے بعض نمونے اب بھی دستیاب ہیں- انہوں نے قطع وزیری (بوک سائز 16×23)، چھوٹا قطع سلطانی(بوک سائز 15×21) اور بڑی قطع رحلی(28×21) کی سائزوں میں قرآن کی خطاطی کی ہے-

حسين بہزاد

1273)-1347) ہجری قمری کے نامور ایرانی معاصر مصور تھے- یورپ کی پینٹنگ سے واقفیت حاصل کرنے کے راستے میں ان کی بہت سی کوششیں اس کا باعث بنیں کہ مینی ایچر ایک نئے موڑ میں داخل ہوجائے- بہزاد کی ہزار سے زیادہ مینی ایچر پینٹنگز اب بھی دستیاب ہیں جن میں ڈیزائننگ، رنگ کی بندشیں، حالات و کیفیات کی طرف توجہ اور نازک کام کی اہمیت نمایان نظر آتی ہے-

مصلح‌الدين لارى

مصلح الدين محمد لارى انصارى، دسویں صدی ہجری قمری کے شافعی شاعر، فقیہ، منطقی اور ماہر فلکیات تھے جو " کلامی لاری" تخلص کرتے تھے- اس وقت کی سائنس کے اکثر میدانوں خاص طور پر شاعری میں زیادہ صلاحیت رکھتے تھے- اوحدی بلیانی، مولانا جلال الدین(مولانا) اور محمد مظفر حسین صبا نے ان کے بعض اشعار کا تذکرہ کیاہے- یہ تصانیف ان کی ہیں: مرآت الادوار فى مرقات الاخبار؛ رسالہ ہيئت ملاعلاءالدين قوشچى کی شرح؛