ہم سے رابطہ کیجیئے   پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   انگليسي   العربيه   فارسي  

ایران اور اسلام کے ثقافتی مشاہیر



امامى ہروى محمد

شيخ محمد امامى ہروى نویں صدی ہجری قمری کے خطاط اور مصنف تھے- سلطان يعقوب اور رستم آق‌ قوينلو کے دربار میں لکھنے کے کام میں مصروف تھے- یہ ان کی تخلیقات ہیں: ہفت اورنگ جامى کے ایک نسخے کی کیلیگرافی، مثنوى اُشترنامہ کے ایک نسخے کی کیلیگرافی، ديوان جامہ کے ایک نسخے اور مختلف مرقعات سے 18 قطعات کی کیلیگرافی-

سُفيان ثورى

ابو عبدالله سفيان بن مسروق مكنى، پہلی اور دوسری صدی ہجری قمری کے محدث، مذہبی سائنسز کے استاد اور رہنما تھے جو "ثورى" کے نام سے مشہور تھے اور "ثوری" نامی فقہی مذہب کے بانی تھے- سفیان کو امیر مومنان کہتے تھے؛ کیونکہ حق و حقیقت کے علمبردار تھے- ظاہری اور باطنی علوم میں بے مثال تھے، پانچ اہم مجتہدوں میں سے ایک، اور زیادہ زاہد اور متقی آدمی تھے- ان کی بعض تصانیف مندرجہ ذیل ہیں: الجامع الكبير؛ الجامع الصغير؛ كتاب الفرائض؛

مسعودى مَروَزى

تیسری صدی ہجری قمری کے انتہائی دور اور چوتھی صدی ہجری قمری کے ابتدائی دور سے متعلق ایک عظیم شاعر تھے- وہ سب سے پہلے آدمی تھے جنہوں نے ایرانی مہاکاوی اور تاریخی واقعات کو نظم کے ڈھانچے میں ڈال کر ایک منظوم شاہنامہ لکھا جو کیومرث بادشاہ سے لے کر حکومت ساسانيان کے تختہ الٹنے تک رونما ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے- اس منظوم شاہنامہ سے صرف تین ابیات اب دستیاب ہیں جن کا مطہر بن طاہر مَقْدَسى نے ذکر کیا ہے-